مر چکا ہے دل مگر زندہ ہوں میں
زہر جیسی کچھ دوائیں چاہییں
پوچھتی ہیں آپ، آپ اچھے تو ہیں
جی میں اچھا ہوں، دوائیں چاہییں
اِک دل ہے جو ہر لمحہ جلانے کے لئے ہے
جو کچھ ہے یہاں آگ لگانے کے لئے ہے
علاج یہ ہے کہ مجبور کر دیا جاؤں
ورنہ یوں تو کسی کی نہیں سُنی میں نے
کون اس گھر کی دیکھ بھال کرے
روز اک چیز ٹوٹ جاتی ہے
وہ جو رہتی تھی دل محلے میں،
پھر وہ لڑکی مجھے ملی ہی نہیں